13 اگست 2012 - 19:30

حضرت آیت‌ الله مکارم شیرازی نے مسلمانوں کو عھد وپیمان پرعمل اورامانت داری سےکام لینے کی تاکید کرتے ہوئے کہا : عھد وپیمان پرعمل اور امانت داری اسلام کے اھم ترین اصول ہیں ۔

ابنا: آیت ‌الله ناصر مکارم شیرازی نے اپنی سلسلہ وار تفسیرقران کریم کی نشست میں جو حرم مطھر حضرت معصومہ قم میں زائرین ومجاورین کی شرکت میں منعقد ہوئی سورہ احزاب کی پندرھیوں آیت کی تفسیرکی ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج فقہ واصول کے استاد نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلام میں عھد وپیمان کی بہت زیادہ اھمیت ہے، آیتوں اور روایتوں کے آئینے میں مومنین کی نشانیاں بیان کی اور وفاء عھد وامانتوں کی حفاظت مومنین کے اھم ترین اوصاف میں سے جانا ۔

حضرت آیت‌ الله مکارم شیرازی نے امام علی(ع) کے نامہ مالک اشتر کی ٹکڑے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : حضرت امام علی(ع) نے مالک اشتر کو تحریر کیا : ’’اگر دشمن سے بھی عھد وپیمان کیا ہو تو اپنے عھد وپیمان پر قائم رہو اور جو امان انہیں دیا ہے اس پر پابند رہو ‘‘۔

انہوں نے ایۃ ’’وَلَقَدْ کَانُوا عَاهَدُوا اللَّهَ مِن قَبْلُ لَا یُوَلُّونَ الْأَدْبَارَ وَکَانَ عَهْدُ اللَّهِ مَسْؤُولًا قُل لَّن یَنفَعَکُمُ الْفِرَارُ إِن فَرَرْتُم مِّنَ الْمَوْتِ أَوِ الْقَتْلِ وَإِذًا لَّا تُمَتَّعُونَ إِلَّا قَلِیلًا‘‘ کی تفسیر کرتے ہوئے یاد دہانی کی : بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ ’’عاهدوا‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جب پیغمبر اسلام(ص) مدینہ میں وارد ہوئے تو انہوں نے آپ سے معاہدہ کیا اور بعض معتقد ہیں کہ اس سے مراد وہ عھد وپیمان ہے جو پیغمبراسلام(ص) سے میدان احد میں ہوا کہ میدان جنگ نہ چھوڑیں، تیسرے یہ کہ بعض معتقد ہیں کہ جنگ احزاب سے پہلے پیغمبراسلام(ص) نے سب سے بیعت لی تھی ۔

اس مرجع تقلید نے یاد دہانی کی : ھم معتقد ہیں کہ اسلام لانا، خدا کی وحدانیت اور نبی(ص) کی نبوت کا اقرارخود ایک الھی عھد و پیمان ہے کہ جو کہا اس پرعمل کرو، کیوں کہ روز قیامت حساب وکتاب سخت ہوگا ۔

انہوں نے عھد کی تین قسمیں کرتے ہوئے یاد دہانی کی : عھد کی ایک قسم، وہ عھد ہے جسے عوام اورحکومت آپس میں کرتی ہے جس کی مخالفت حرام ۔ دوسرے وہ عھد ہے، جسے انسان خود اپنے آپ سے کرتا ہے ، اور اس بیچ کسی قسم کا طرفینی معاملہ نہیں ہوتا، اس عھد کو اگر چہ پورا کرنا ضروری نہیں مگرانجام بہتر ہے۔ تیسرے وہ عھد جسے انسان اپنے خداوند تبارک و تعالی سے کرتا ہے، اس کا انجام دینا بھی ضروری ولازمی اوراس کی مخالفت جائز نہیں ہے اوراگر کسی نے مخالفت کی تو کفارہ ادا کرے گا ۔

اس مرجع تقلید نے آخر میں شب قدر کی فضیلت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : سبھی ان شبوں کی اھمیت سمجھیں اوراسلامی معاشرے کی مشکلات کے حل میں اس ماہ کے شھید سے متوصل ہوں ونیز داخلی مشکلات کے حل کیلئے بھی دعائیں کریں ۔

.....

/169